مرے اندربہت دن سےکہ جیسے جنگ جاری ہےعجب بے اختیاری ہےمیں نہ چاہوں مگر پھر بھی تمہاری سوچ رہتی ہےہر اک موسم کی دستک سے تمہارا عکس بنتا ہےکبھی بارش تمہارے شبنمی لہجے میں ڈھلتی ہےکبھی سرما کی یہ راتیں!تمہارے سرد ہاتھوں کا دہکتا لمس لگتی ہیںکبھی پت جھڑ!تمہارے پاؤں سے روندے ہوئے پتوں کی آوازیں سناتا ہےمجھے بے حد ستاتا ہےکبھی موسم گلابوں کا!تمہاری مسکراہٹ کے سبھی منظر جگاتا ہےمجھے بے حد ستاتا ہےکبھی پلکیں تمہاری، دھوپ اوڑھے جسم و جاں پر شام کرتی ہیںکبھی آنکھیں، مرے لکھے ہوئے مصرعوں کو اپنے نام کرتی ہیںمیں خوش ہوں یا اُداسی کے کسی موسم سے لپٹا ہوںکوئی محفل ہو تنہائی میں یا محفل میں تنہا ہوںیا پھر اپنی لگائی آگ میں بجھ بجھ کے جلتا ہوںمجھے محسوس ہوتا ہےمرے اندربہت دن سےکہ جیسے جنگ جاری ہےعجب بے اختیاری ہےاوراِس بے اختیاری میںمرے جذبے، مرے الفاظ مجھ سے روٹھ جاتے ہیںمیں کچھ بھی کہہ نہیں سکتا، میں کچھ بھی لکھ نہیں سکتااُداسی اوڑھ لیتا ہوںاوران لمحوں کی مٹھی میں!تمہاری یاد کے جگنو کہیں جب جگمگاتے ہیںیابیتے وقت کے سائے!مری بے خواب آنکھوں میں کئی دیپک جلاتے ہیںمجھے محسوس ہوتا ہےمجھے تم کو بتانا ہےکہ رُت بدلے تو پنچھی بھی گھروں کو لوٹ آتے ہیںسنو جاناں، چلے آؤتمہیں موسم بلاتے ہیں
Mere Ander Bohut Din Say
Started by Paro, Oct 22 2008 12:24 AM
9 replies to this topic
#1
Posted 22 October 2008 - 12:24 AM
#2
Posted 22 October 2008 - 06:20 PM
good
#3
Guest_Usama_*
Posted 23 October 2008 - 10:55 PM
#4
Posted 23 October 2008 - 11:21 PM
shukriya ji..
#5
Posted 24 October 2008 - 12:59 PM
Hmm Nice Topic Priya .. Keep It Up .. !
#6
Posted 25 October 2008 - 08:51 PM
oho waday waday logo nay tareef kari hay..
shukriya.com ji
#7
Posted 29 October 2008 - 01:35 PM
achi sharing ki
0 user(s) are reading this topic
0 members, 0 guests, 0 anonymous users








